جواب : حضرت علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی تحریر فرماتے ہیں : عبد الوہاب کے ماننے والے نجد سے نکلے اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ پر زبردستی قبضہ کر لیا وہ لوگ اپنا مذہب حنبلی بتاتے ہیں۔ لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف وہی لوگ مسلمان ہیں اور جو ان کے اعتقاد کی مخالفت کریں وہ کافر و مشرک ہیں۔ اسی لیے ان لوگوں نے اہل سنت و جماعت اور ان کے عالموں کے قتل کو جائز ٹھہرایا۔
(ردا المحتار، ج4، ص262)
اور دیوبندی مسلک کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد ٹانڈوی عرف مدنی سابق صدر المدرسین دار العلوم دیوبند لکھتے ہیں کہ "محمد بن عبد الوہاب کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم اور تمام مسلمان مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل و قتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے۔" (شہاب ثاقب صفحہ 43)
دیوبندی مسلک کے دوسرے مشہور مولانا خلیل احمد امیٹھوی لکھتے ہیں : محمد بن عبد الوہاب کے وہابی چیلوں نے امت کو کافر کہا۔" (المہند صفحہ37)
اور جو کسی مسلمان کو کافر کہے اگر وہ کافر نہ ہو تو اسے کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو وہ کفر خود اس پر پلٹ آیا۔ (مشکوٰۃ ص411)
لہٰذا مذکورہ مسجدوں کے امام اگر وہابی ہیں تو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ "وہابیہ قطعاً بے دین اور بے دین کے پیچھے نماز ناجائز۔
(فتاوی رضویہ، ج3، ص240)
(فتاوی فقیہ ملت، ج1، ص171)
2 تبصرے
Haq farmaya aap ne
جواب دیںحذف کریںMasahllah
جواب دیںحذف کریں