غزل

غزل
`                    غزل

جو پیار تھا تری آنکھوں میں اب وہ پیار کہاں 
جو دل میں تھا ترے میرا وہ اب وقار کہاں

ترے دیار میں دل میرا اب نہیں لگتا 
ترے چمن میں وہ پہلی سی اب بہار کہاں

نگاہیں ڈھونڈتی رہتی ہیں ہر جگہ اس کو
نجانے ہو گئی دنیا میں وہ فرار کہاں

میں کھویا رہتا ہوں اس کی ہی یاد میں ہر پل
گئی ہے چھوڑ کے جب سے مجھے قرار کہاں

نہیں ہے دنیا میں اب کوئی باوفا تنویر 
جوجان دے دے کسی پر وہ جانثار کہاں

`      محمدتنویرصدیقی رضوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے