حضور مظہر شعیب الاولیاء خلافت اور دارالعلوم فیض الرسول


 حضور مظہر شعیب الاولیاء ۔۔۔خلافت اور دارالعلوم فیض الرسول 

قطب وقت عارف بااللہ ولی کامل راز دار شریعت غواص بحر معرفت عابد شب زندہ دار سراپا خیر و برکت صوفی باصفا حضور مظہر شعیب الاولیاء الحاج الشاہ محمد صدیق احمد صاحب قبلہ قادری چشتی یارعلوی سابق سجادہ نشین خانقاہ یارعلویہ و ناظم اعلی دار العلوم اہلسنت فیض الرسول براؤں شریف 


حضرت شیخ المشائخ یار علی کے دل کا چین

پیکر رشدو ہدی ہیں مظہر یارعلی 

جن کے در پر ھے جھکی مالداروں کی جبیں 

بادشاہ بن کر گدا ہیں مظہر یارعلی 


خانوادہ یارعلویہ کے چشم و چراغ مجاہد سنیت عاشق محبوب داور حضور مظہر شعیب الاولیاء کی ذات اقدس پر چند سطر لکھنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں کہ جن کی یاد  ان کے جانے کے بعد بھی آتی ھے اور آتی رھے گی آپ کو نہ بھلایا جا سکتا ھے اور نہ ہی آپ کے کارناموں کو فراموش کیا جا سکتا ھے 

آج کل پیران عظام کا ہر طرف بول بالا ھے اور خلافت کا دور دورہ ھے جدھر دیکھو جہاں دیکھو جس کو دیکھو وہ لوگ اپنی اپنی خلافت کا پرچار کر رھے ہیں آج کل خلافت کے نام پر پیر مغاں بن کر زمانے کو لوٹ کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رھے ہیں ان میں نہ کوئ پرہیز گاری ھے نہ ہی نماز با جماعت کا اہتمام ھے نہ ہی کوئ روحانیت ھے نہ کوئ کرامت ھے نہ عبادت و ریاضت ھے نہ ہی کوئ مجاہدہ ھے صرف پیر صاحب بن کر مریدوں کے نذرانے پر عیش کی زندگی جی رھے ہیں 


یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ھے اور ڈوب کر جانا 


شیخ المشائخ حضور شعیب الاولیاء رحمة اللہ علیہ نے حضور مظہر شعیب الاولیاء کو خلافت دینے سے دو سال قبل عبادت و ریاضت اور مجاہدہ کرایا ھے ایسا مجاہدہ  آج کی تاریخ میں ہر شخص نہیں کر سکتا ھے خوف طوالت کے سبب مجاہدہ پر نہ لکھتے ہوئے خاص خاص باتیں لکھ رہا ہوں 


دولت عشق میسر نہیں ہر دل کے لئے 

چنی گئ ھے یہ نعمت کسی کسی کے لئے 


حضور شعیب الاولیاء نے پہلے روحانیت کا تاجدار بنایا ھے بعد میں خلافت کی دولت سے سرفراز کیا ھے 

حضور شعیب الاولیاء نے بھت کچھ شرائط کے ساتھ حضور مظہر شعیب الاولیاء کو خلافت دیکر اپنا جا نشین بنایا اور دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول کا ناظم اعلی بنایا تھا 

حضور شعیب الاولیاء نے فرمایا تا وقت حیات ان تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا 

(١) شرط یہ ھے کہ پورے ہندوستان میں جہاں جہاں میرے مریدین ہیں نہ ان کے گھر جانا ھے نہ ہی ان سے نذرانہ لینا ھے اگر کوئ کوئ ضد کرکے بلایا بھی تو وہاں جاکر باپ کا مرید سمجھ کر خود اس کو نذرانہ دینا ہوگا

(۲) خانقاہ یارعلویہ کا تا وقت حیات لنگر جاری رکھنا ھے جتنے بھی مریدین معتقدین آئینگے ان کے کھانے رہنے کا انتظام کرنا ہوگا 

(۳) ہر رمضان عید کے بعد دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول کے ہر استاذ مدرس کو ان کی حیثیت کے مطابق نذرانہ دینا ہوگا 

(٤) فیض الرسول کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں سارا خرچ اپنی جیب خاص سے کرنا ہوگا 

(۵) پورے ہندوستان میں جہاں جہاں سلسلہ قادریہ و چشتیہ کے بزرگان دین اولیاء کاملین کے مزارات ہیں سال میں ایک مرتبہ ان آستانوں پر حاضری دینا ھے 

(٦) اجمیر شریف میں ہر سال عرس کے موقعہ پر لنگر عام جاری کرنا ھے 

(۷) خانقاہ یارعلویہ براؤں شریف کی جانب سے جن جن بزرگوں کی یاد منائی جاتی ھے تا وقت حیات ان اولیاء کاملین کی یادگار مناتے رہنا ھے 

(٨) دارالعلوم فیض الرسول کے سالانہ دستار بندی کے موقعہ پر جو بھی علمائے کرام آئینگے ان سب کو نذرانہ دینا یوگا 

(۹) اپنی زندگی کی آخری سانس تک نماز باجماعت تکبیر اولی کا اہتمام کرتے رہنا ھے 

(۱۰) ہم نے تمہیں ادارے کا ناظم اعلی بنایا ھے یہ جو ہم فیض الرسول کا پودہ لگایا ھے اسے اپنے خون سے سینچ کر ہرا بھرا کرنا اور اس میں پھول پھل اگانا تمہارا کام ھے اور اسے بام عروج تک پہونچانا اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا ھے 

حضور شعیب الاولیاء نے یہ تمام شرائط رکھتے ہوئے مظہر شعیب الاولیاء کو خلافت سے نوازا ھے 

غور کرنے کا مقام ھے جو انسان دنیا کو نہ دیکھا ہو  اس کے لئے 

ان تمام شرائط پر عمل کرنا کتنا کٹھن اور مشکل ہوگا 

ہمت مرداں مدد خدا 

مظہر شعیب الاولیاء نے تمام شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے ادبا گزارش کی حضور آپ کا ہر حکم میرے سر آنکھوں پر تاوقت حیات آپ کی ہر شرط پر عمل کروں گا


میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر 

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا


حضور مظہر شعیب الاولیاء نے یہ ساری ذمہ داری سنبھالتے ہوئے اپنا سرمایہ حیات اپنی ساری توانائیاں اپنی ساری صلاحتیں اور اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنا سب کچھ رضائے الہی کے حصول اور سر بلندی اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت اور ناموس رسالت اور دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول کی ترقی کے لئے وقت فرمادیا تھا

حضور مظہر شعیب الاولیاء کے خلافت آنے کے وقت فیض الرسول کی سالانہ آمدنی فقط تیس ہزار کی تھی مظہر شعیب الاولیاء نے دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول کی آمدنی کےلئے دن رات جدو جہد کوشش کرتے ہوئے تیس ہزار سے  بڑھا کر سالانہ پچاس لاکھ کی آمدنی کر دیئے تھے 

حضور مظہر شعیب الاولیاء نے ہندو نیپال میں تقریبا پندرہ لاکھ مسلمانوں کو مرید بنا کر ان کے ایمان عقیدے کی حفاظت فرمائی ھے وہابیوں دیو بندیوں کی گمراہی سے مسلمانوں کو بچایا ھے 

حضور مظہر شعیب الاولیاء سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوئی ہیں  

جس جس گاؤں دیہات میں حضرت کا دورہ ہوا قدم ناز پڑا وہ گاؤں آج بھی وہابیت سے پاک ھے۔ 

حضور مظہر شعیب الاولیاء کے حالات و کردار صورت سیرت  دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں خلفائے راشدین کی اداؤں کی جھلک نظر آتی تھی

حضور مظہر شعیب الاولیاء نے فیض الرسول کی ترقی کےلئے بہت بڑی قربانی پیش کی ھے 

حضور شعیب الاولیاء کی تمام اولادوں میں سب سے چہیتے اور روحانیت کے تاجدار مظہر شعیب الاولیاء تھے 

اسی سبب سے حضور شعیب الاولیاء نے حضور خلیفہ صاحب قبلہ کو اپنا نائب و مظہر بنایا تھا اور اپنا جانشین بناکر فیض الرسول کا ناظم اعلی بنایا 

حضور شعیب الاولیاء کے حیات پاک میں براؤں شریف میں صرف ہال کمرہ بنا تھا ہال کمرہ بنوانے میں مظہر شعیب الاولیاء نے دن رات کوشش کی تھی بہت  بڑا کار نامہ انجام دیا ھے

• ہال کمرہ 

حضور شعیب الاولیاء نے جب مکتب مدرسہ کو دارالعلوم کی شکل میں کرنے کا ارادہ فرمایا تو پہلے ہال کمرہ کو تعمیر کیا تعمیر کے وقت حضور شیخ المشائخ کا ضعیفی وقت تھا حضور مظہر شعیب الاولیاء نوجوان تھے ہال کمرہ بنانے میں جدو جہد کوشش کرنا چندہ جمع کرنا مٹریل اکٹھا کرنا مزدور بلانا کام کرانا یہ ساری ذمہ داری حضور مظہر شعیب الاولیاء کی تھی دن رات کوشش کرکے اسے پایہ تکمیل تک پہونچانا یہ بھت بڑا کارنامہ انجام دیا ھے

•دارالاقامہ دو منزلہ بیس کمرہ ہاسٹل  مظہر شعیب الاولیاء کے دور حیات میں تعمیر ہوا ھے

(1980/ 1982 ) میں دارالعلوم کی جانب سے بیت الخلاء نہیں تھا میدان میں جانا ہوتا تھا  بیس طہارت خانہ مظہر شعیب الاولیاء کے دور حیات میں تعمیر ہوا ھے 

•دارالحدیث حضور مظہر شعیب الاولیاء کی زندگی میں تعمیر ہوا ھے 

•دارالتفسیر مظہر شعیب الاولیاء کی حیات پاک میں تعمیر ہوا ھے 

•جدید درسگاہ مظہر شعیب الاولیاء کی کوشش جدو جہد سے تعمیر ہوا ھے 

ہاسٹل کے سامنے براؤں شریف کے کچھ مسلمان کی زمین تھی جس میں کئی درخت تھے وہ زمین مظہر شعیب الاولیاء کی کوشش سے دارالعلوم کو ملی تھی 

دارالعلوم فیض الرسول کی ساری عمارتیں مظہر شعیب الاولیاء کی دور زندگی میں تعمیر ہوئی ھے مظہر شعیب الاولیاء نے دارالعلوم کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردیا تھا

فیض الرسول کی ایک ایک اینٹ پر مظہر شعیب الاولیاء کا احسان ھے

فیض الرسول کی ایک ایک عمارت پر مظہر شعیب الاولیاء کا احسان ھے فیض الرسول کے ہر درو دیوار پر مظہر شعیب الاولیاء کا احسان ھے


جب تک سورج  چاند رھے  گا 

حضور مظہر شعیب الاولیاء کا نام رھے گا


مظہر شعیب الاولیاء نے اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کیا 

نہ مکان بنایا نہ دکان بنایا نہ ہی بینک بیلنس کیا نہ ہی زیورات خریدا آپ نے جو کچھ کیا ھے صرف فیض الرسول کے لئے کام کیا ھے فیض الرسول کو بام عروج تک پہونچانے میں بہت بڑی قربانی پیش کی ھے 

مظہرشعیب الاولیاء جب مریدین میں تشریف لے جاتے جو نذرانہ ملتا آپ فرماتے یہ میرے فیض الرسول کا چندہ ھے یا نذرانہ ھے چندہ کی رقم اپنے جبے کی داہنی جیب میں رکھتے نذرانہ کی رقم بائیں جیب میں   صبح سے شام تک نذرانہ کی رقم ضرورت مندوں میں خرچ کردیتے چندہ کی رقم فیض الرسول میں جمع کردیتے 

ایک مرتبہ ڈرتے ڈرتے مرحومہ پیرانی اماں نے عرض کیا حضرت بچوں کے لئے ایک گھر بنوا دیجئے بہت تکلیف ھے جگہ کی قلت ھے یہ سن کر مظہر شعیب الاولیاء جلال میں آکر فرمایا اب ایسی فرمائش کبھی مت کرنا بچوں کے نصیب میں جتنا رزق اللہ نے لکھا ھے وہ ان کو ملتا رھے گا 

ہم دنیا میں دکان مکان بنا کر کیا کریں گے ہمارے لئے فیض الرسول ہی کافی ھے 

ہم دن رات فیض الرسول کی خدمت کرتے ہیں  کوشش کرتے ہیں اس کی ترقی کےلئے جدوجہد کرتے ہیں ہزاروں بچے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں عالم حافظ قاری بن کر مذہب اسلام کی تبلیغ واشاعت کر رھے ہیں  

فیض الرسول کی اس خدمت کے صلہ میں اللہ تعالی ہمیں جنت میں اعلی سے اعلی مقام عطا کرے گا ہمیں دنیا کا مکان نہیں چاہئے

نئی نسل کے علمائے کرام و جملہ مسلمان کو مظہر شعیب الاولیاء کے حالات و کردار  دینی خدمات و کرامت و عظمت و اہمیت و فضیلت کے بارے میں کچھ معلوم و جانکاری نہیں ھے اس لئے یہ چند سطر لکھ دیا ہوں یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف مظہر شعیب الاولیاء کی عظمت و اہمیت و فضیلت کو اجاگر کرنا ھے  بس 


ان کے نام پاک کا ڈنکا بچے گا حشر تک 

مخزن جودو سخا ہیں مظہر یارعلی 

ایسا نہیں زمین پر ہی ان کا ذکر ہو

مرشد کا میرے چرچا ھے دونوں جہان میں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

✍ برکت فیضی یارعلوی گونڈوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے