مزارات اولیاء اللہ پر موجودہ دور میں ہونے والے کچھ خلاف شرع امور کا جائزہ اور ان کی اصلاح




مزارات اولیاء اللہ پر موجودہ دور میں ہونے والے 
کچھ خلاف شرع امور کا جائزہ اور ان کی اصلاح

موجودہ دور میں مزارات اولیاء الله رضی اللہ عنہم پر حاضری دینے والے کچھ افراد اپنی لاعلمی کی بنا پر مزارات کا سجدہ کرتے ہیں ، طواف کرتے ہیں، بوسہ دیتے ہیں، جھکتے ، چومتے، چمٹتے اور لپٹتے ہیں۔ شاید اس خیال سے کہ ان کاموں سے بزرگان دین کے فیوض و برکات کچھ زیادہ ملیں گے۔ جب کہ ان نادان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کاموں سے نقصان ہی نقصان ہے۔ بزرگوں کے فیض و برکات ملنا تو در کنار اللہ جل شانہ کے عذاب وعتاب کے مستحق ہوتے ہیں ۔ ان کاموں سے اللہ ورسول (جل جلالہ وصلی المولیٰ علیہ وسلم) سے ناراض ہوتے ہیں اور بزرگان دین تو الله ورسول (جل جلالہ وصلی المولیٰ علیہ وسلم) کی رضا خوشنودی ہی چاہتے ہیں۔ وہ حضرات قدسیہ ان کاموں سے کیوں کر خوش ہوں گے۔ بلاشبہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے حالات پر رونا آتا ہے کہ وہ کسی طرح بزرگوں کی اندھی محبت و عقیدت میں نہایت ہی دیدہ دلیری و بے باکی سے شریعت محمد علٰی صاحبھا الصلاة والسلام کے اصول وضوابط کو پامال کررہے ہیں ۔ اور نہایت ہی بے خوفی سے اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں ۔ انھیں ذرا بھی آخرت کے ہولناک و دل دہلا دینے والے مناظر کا پاس و خیال  نہیں رہ گیا ہے۔ خوف خدا و شرم نبی (جل جلالہ وصلی المولی علیہ وسلم ) کا پاکیزه پانی ان کی آنکھوں سے اتر چکا ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ گزشتہ شریعتوں میں غیر خدا تعظیمی سجده دامن تھامگر ہمارے نبی حضرت مصطفی ارواحنافدا ﷺ کی شریعت میں الله جل جلالہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ۔ خواہ ہمارے نبی فخر موجودات ﷺ ہی کیوں نہ ہوں ۔ چنانچہ اصحاب رسول الله ﷺ نے متعدد بار اللہ کے رسولﷺ سے اجازت طلب کی کہ اے جان کا ئنات آپ ہمیں اجازت دے دیجئے کہ ہم آپ کو تعظیمی سجدہ کیا کریں تو حضور ﷺ نے انھیں اجازت نہیں دی۔ فرمایا اۓ میرے صحابہ! " اِنِّیْ لَوْ کُنْتُ اٰمُرُ اَحَداً اَنْ يَسْجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرْتُ الْمَراةَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْ جِها "  کہ اگر میں (اللہ کے علاوہ) کسی کے سجدہ کرنے کا کسی کو حکم دیتا تو عورتوں کو ضرور حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔ روی ذلک الحديث عن كثير من المحدثين باسانيد صحيحة. آپ یقیناً کسی بھی عالم دین سے دریافت کر سکتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کہ شرائع سابقہ میں اللہ تعالی کے علاوہ دوسروں کو تعظیمی سجدہ جائز ہو۔ حضرت آدم و یوسف علیہما السلام کو تو سجدہ کیا جائے لیکن ہمارے لئے ممانعت ہو۔ ہمارے نبی ﷺ کی شریعت میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام قرار دیا جائے ۔ تو اس کا جواب مختصر لفظوں میں یہ ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےﷺ کی شریعت میں جوامور شرک و کفر ہیں وہ تو ہیں ہی ۔ ایسے کاموں سے بھی روک دیا گیا ہے کہ جس سے شرک و کفر کے دروازے کھلیں ۔ جو شرک وکفر کی طرف لے جانے والے ہوں۔ اللہ تعالی جل مجدہ الکریم کے علاوہ کسی دوسرے کو سجدہ کرنے سے احتمال تھا کہ کہیں لوگ مرور ایام کے ساتھ اسی کو خدا اور لائق عبادت و پرستش سمجھنے لگیں۔ اس لئے ان کاموں کوبھی منع کر دیا گیا جو شرک و کفر کی طرف لے جانے والے تھے۔

چنانچہ امم ماضیہ میں ایسے بیشتر واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں کہ وہ جنھیں اولاً سجدۂ تعظیمی کرتے تھے مرور ایام کے ساتھ انھیں سجدہ عبادت کرنے لگے۔ اس طرح جہنم کے ایندهن اور لقمۂ تر بننے کے مستحق ہو گئے ۔ اللہ جل شانہ کا ۔ بے پناہ شکر واحسان ہے کہ اس نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک ﷺ کے صدقے میں ہم امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوة والسلام پر فضل واحسان فرمایا کہ ہم پر جن چیزوں کو حرام فرمایا اس کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی حرام فرمادیا جو ان حرام کردہ چیزوں کی طرف لے جائے۔ جیسے زنا و فتنہ کے حرام ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب کو بھی حرام فرمادیا تاکہ زنا میں اور دیگر مصائب و آلام میں ملوث ومبتلا  ہونے کا خدشہ ہی ختم ہوجائے ۔ اس اصول کے پیش نظر علماء ملت اسلامیہ نے مزارات مقدسہ کے چومنے، لپٹنے ، چمٹنے اور بوسہ دینے کا منع فرما دیا ہے ۔ کیوں کہ مزارات بوسی یا چوکھٹ مزار چومنا مشابہتاً بت پرستی اور صورةً قریب سجدہ ہے۔ دیکھنے والے اسے سجدہ سمجھ سکتے ہیں اور اس سے سجدے کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ کیوں کہ جہالت عام ہوچکی ہے۔ یوں ہی مزارات مقدسہ سے لپٹنے، چمٹنے اور چھونے سے بے ادبی و بے حرمتی بھی ہوسکتی ہے جو باعث محرومی ہے۔ اسی مصلحت کے پیش نظر مزارات سے دور رہ کر فاتحہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ ساری ممانعتیں مبنی بر احتیاط ہیں۔ مگر ہرگز ہرگز وقت زیارت عوام الناس مزارات کے قریب نہ جائیں بلکہ دور ہی سے فاتحہ وغیرہ پڑھ لیں۔ اس میں ادب زیادہ ہے۔ یوں ہی مزارات کا طواف یعنی بطورعظیم ان کے اردگرد چکر وپھیرے لگانا بالاتفاق ناجائز ہے۔ کیوں کہ یہ خانۂ کعبہ کے لئے خاص ہے۔ اور نہ ہی حد رکوع تک بطور تعظیم جھکناہی جائز ہے۔

 خلاصہ کلام یہ ہے کہ سجده الله تبارک وتعالی سوا کسی کو جائز نہیں۔ غیراللہ کو سجده عبارت کھلا ہوا کفر ہے۔ اور سجدہ تعظیمی حرام ہے بلکہ ایسا عمل بھی ممنوع ہے جوسجدے سے مشابہت رکھتا ہو۔ جیسے چومنا و بوسہ دینا وغیرہ یہ بھی مزارات پر نہیں ہونا چاہئے ۔ اور نہ ہی مزارات کو چھونا اور اس سے چمٹنا و لپٹنا ہی چاہنے کے باعث محرومی ہونے کا احتمال ہے۔ اور ان کا طواف اور بطور تعظیم تا حد رکوع جھکنا بھی ناجائز ہے۔ سیدی اعلی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے سجده تعظیمی کی حرمت اور دیگر خلاف شرع امور کی تردید پر نہایت ہی مدلل ومبرہن کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ جس کا تاریخی نام  "الزبدة الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ" ہے یہ مایہ ناز کتاب مخالفین زمانہ وہابیہ و دیابنہ خدلھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ جو ہمہ وقت محدث بریلوی پر انگشت نمائی کرتے ہیں ۔ آپ کو موجد بدعات وخرافات بتلاتے ہیں تاکہ عوام الناس جوان سے عقیدت محبت رکھتے ہیں ، غلط فہمی میں مبتلا ہو کر مسلک حق اہل سنت والجماعت سے  برگشتہ ہوجائیں ۔جس کی نشر واشاعت کا آپ علیہ الرحمہ بیڑا اٹھایا تھا جس کی وجہ سے آپ کا طریقہ کار بنام مسلک اعلی حضرت مذہب حق اہلسنت والجماعت کا علامتی نشان بن گیا ہے۔ میں کہتا ہوں اگر مخالفین تعصب وعناد سے بالاتر ہو کر آپ کی ذکر کردہ کتاب کا مطالعہ کرلیں تو محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے متعلق ان کے سارے شکوک وشبہات ایکخت ختم ہوجائیں گے اور اس بات کا برملا اعتراف کر لیں گے کہ واقعی آپ علیہ الرحمہ نے قوم کی اصلاح اور رد بدعات ومنکرات کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ رب العزت جل جلالہ حق کہنے سننے اوراس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 خیال رہے محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی ذکر کردہ کتاب سے یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ سجدے کی دو قسمیں ہیں:(1) سجدۂ عبادت (۲) سجدۂ تحیت وتعظیم ۔ اول الذکر یعنی سجدۂ عبادت یہ ہے کہ کسی کو خدا و معبود مان کر اس کے لئے ماتھا و پیشانی زمین پر رکھنا یہ غیر خدا کے لئے شرک ہے۔ثانی الذکر یعنی سجدۂ تحیت یہ ہے کہ کس کو خدا کابندہ مان کر تعظیماً اس کو سجدا کرنا ، یہ کفر تو نہیں حرام بلاشبہ ہے۔

 محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی مذکورہ کتاب سے جس میں آپ نے کثیرقرآن وحدیث کے دلائل وشواہد اور اقوال علماء وعبارات فقہائے کرام سے سجدے کی حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ الله تعالی کے علاوہ کسی اور کے لئے سجدہ شرک ہوگا یا تو حرام اور ہرگز ہرگز شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلوة السلام میں کسی کسی مخلوق کو سجدہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مخالفین زمانہ کے بکواسات کا حتمی طور پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ نہایت ہی بے شرمی پر آمادہ ہوکر جو اہل سنت کو قبر پرست وقبر پوجوا  بکتے رہتے ہیں یہ ان کی بکواسات عصبیت و ہٹ دھرمی پر مبنی ہے یا پھر جہالت و لاعلمی پر۔ کیونکہ کوئی بھی شخص قبر پرست و قبر پوجوا اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب وہ صاحب قبر کو خدا و معبود مان کر سجدہ کرے ۔ حاشاللہ! کوئی مسلمان ہزار جاہل بھی کسی ولی و بزرگ کو خدا نہیں مانتا بلکہ بندۂ خدا مانتا ہے۔ بالفرض اگر کوئی مسلمان اپنی جہالت کی بنا پر کسی قبر کو سجدہ کرے بھی تو نیت نہ معلوم ہونے کی صورت میں کہ بنیت عبادت کر رہا ہے یا بنیت تعظیم ۔ اس کو قبر پرست و مشرک کہنا خود کو مشرک بنانا ہے۔ اوراپنی جہالت کی قطعی و یقینی دلیل پیش کر کے حرام کاروں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانا ہے۔ کیوں کہ نیت نہ معلوم ہونے کی صورت میں اس طرح کہنا ایک طرح کی بموجب قرآن مجید "یا ایها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم" بدگمانی ہی ہے جو اصلاً حرام ہے۔ لہذا توحید کے اجارہ داروں سے گذارش ہے کہ حواس باختگی ودیوانگی میں نہ رہ کر عقل وخرد سے کام لیتے ہوئے زبانیں کھولیں ورنہ صرف انھیں الفاظ "قبر پرست وقبر وپوجوا‘‘ کے بکنے سے ان کے بزعم خود توحید پرستی کے شیش محل میں كفر و ارتداد کی آگ لگ جائے گی۔ جس سے ان کے سارے سجدے ورکوعات تسبیحات وتہلیلات  اور دیگر ریاضات ومجاہدات آن واحد میں بھسم ہو جائیں گے اور ابلیسی قلادے پہن کر جہنم میں ہانک دیئے جائیں گے۔ پھر شرک و بدعت کے نعرے کے بجائے واحسرتاه واحسرتاہ  کے نعرے بلند کریں گے۔ اللہ رب العزت جل شانہ ان ابلیسی توحید کے سربراہوں کو عقل سلیم عطافرمائے۔

 میں اپنے دینی سنی بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ حضرات بھی مزارات اولیاء اللہ رضی اللہ عنہم پر حاضری کے وقت شرعی آداب و احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے عقیدت محبت کے پھول نچھاور کریں۔ قطعاً ایسے حرکات وسکنات نہ کریں جس سے آپ کے ایمانی جذبات وعقائد کو ٹھیس پہونچے اور بد مذہبوں وغیرہ کوانگشت نمائی کا موقع ملے ۔ اللہ جل شانہ وعم نوالہ واتم برہانہ کی بارگاہ عظمت ورفعت میں دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب سنی مسلمانوں کو شرعی احکام و اصول اور مقامات اولیاء اللہ وصالحین عظام رضی اللہ عنہم کو سمجھنے کو توفیق بخشے اور ان نفوس قدسیہ سے سچی عقیدت ومحبت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

عطاءالرحمن قادری غفرلہ القوی

خادم جامعہ عربیہ اہلسنت مظفرالعلوم سرسیا کرامت چودھری ضلع سدھارتھ نگر یوپی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے